نئی دہلی، 06 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) رافیل کے معاملے پر ایک بار پھر کانگریس نے مودی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی ہے۔کانگریس کی طرف سے رندیپ سرجیوالا اور پرینکا چترویدی نے پریس کانفرنس کر کے رافیل کو لے کر مودی حکومت پر رافیل میں چوری کرنے کا الزام عائد کیا اور ایک بار پھر کہا کہ چوکیدار نے چوری کی ہے۔سرجیوالا نے انڈیا نیگوسی ایشن ٹیم کے حوالے سے کہا کہ جب کانگریس کی حکومت 126 جہاز خرید رہی تھی، تب ان میں ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی شامل تھی۔مگر مودی حکومت کے سودے میں یہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چوکیدار کی تیسری چوری ہے کہ چوکیدار خود انڈین نیگوسی ایشن ٹیم کو بائی پاس کر کے36 لڑاکا جہازوں کی نیگوسی ایشن کر رہے تھے۔دوستوں یہ سنسنی خیز بات ہے کہ ان 36 بحری جہازوں کے خریدنے کا فیصلہ انڈین نیگوسی ایشن ٹیم نے نہیں کیا۔اس کا نیگوسی ایشن اجیت ڈوبھال نے کیا۔اس سے پہلے کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے رافیل سودے کو لے کر پوچھے گئے سوال پر جوابی حملہ کیا اور دعوی کیا کہ حکومت نے اس لڑاکا طیارے کی خریداری کے عمل پر غور کرنے کے لئے قائم اعلی سطحی کمیٹی کی رپورٹ کو نظر اندازکیا جس پر مودی کو جواب دینا چاہئے۔پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے بی جے پی صدر امت شاہ پر بالاکوٹ میں اے ایف کی کروائی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وزیر اعظم اور شاہ کو اس سے بچنا چاہئے۔انٹونی نے کہاکہ میں اپنے مسلح افواج کی بہادری اور قربانی کو سلام کرتا ہوں۔ہم سب کو اپنے مسلح افواج کی حمایت کرنی چاہیے۔انہوں نے دعوی کیاکہ ہمارے وزیر اعظم ملک میں گھوم رہے ہیں اور غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کانگریس پر الزام لگایا کہ کمیشن کے لئے رافیل کے سودے میں تاخیر کی۔ان کے اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔سابق وزیر دفاع نے کہا کہ کیگ رپورٹ سے صاف ہے کہ پہلے کی این ڈی اے حکومت نے چار سال ضائع کئے۔لیکن جب یوپی اے سرکار آئی تو ہم نے عمل شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ عمل کے دوران بی جے پی کے رہنماؤں یشونت سنہا اور سبرامنیم سوامی نے اعتراض ظاہر کیا تھا۔اس کے بعد ایک کمیٹی کی تشکیل ہوئی۔اس کمیٹی کی رپورٹ کو نریندر مودی حکومت نے نظر انداز کیا۔اگر ہم حکومت میں رہ کر کمیٹی کی رپورٹ کو نظر انداز کرتے تو کیگ کی کیا رائے ہوتی؟ کیا میڈیا کا یہی موقف ہوتا؟کانگریس لیڈر نے کہاکہ مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ اس حکومت میں کمیٹی کی رپورٹ پر نہ تو وزارت دفاع میں بحث ہوئی اور نہ ہی سیکورٹی معاملات کی کابینہ کمیٹی میں اس پر غور کیاگیا۔وزیر اعظم کو جواب دینا چاہئے کہ ان کی حکومت نے کمیٹی کی رپورٹ کی نظرانداز کیوں کیا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے ساتھ جو معاہدہ کیا، اس میں ملک کے قومی مفادات سے سمجھوتہ کیا۔